ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گؤ رکھشکوں پر لگام کسنے کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت

گؤ رکھشکوں پر لگام کسنے کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت

Sat, 09 Sep 2017 09:49:29    S.O. News Service

اورنگ آباد،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی کے ترجمان محمد شعیب القاسمی کی اطلاع کے مطابق مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی کے صدر الیاس کرمانی نے اپنے جاری کردہ صحافتی بیان میں سپریم کورٹ کی اس ہدایت کا خیر مقدم کیا جس میں گؤ رکھشکوں پر لگام کسنے کے لئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو تاکید کی گئی ہے۔ الیاس کرمانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دستور ہند کے عین مطابق اور مرکزی حکموت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت سے گؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی و قتل و گری سے متعلق استفسار پر حکومت کی جانب سے سایسٹر جنرل نے کہا تھا کہ گؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی کو حکومت قانون ہاتھ میں لینا تصور نہیں کرتی۔مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی کے صدر نے سپریم کورٹ کے احکامات و ہدایت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عالیہ نے انتہائی منصفانہ فیصلہ کیا ہے۔ اب مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو فوراً عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ہر ضلع میں ایک آئی۔ پی۔ ایس۔ آفیسر کو نوڈل آفیسر مقرر کرتے ہوئے اہم شاہراہوں اور بستیوں میں گؤ رکھشک مخالف دستے تشکیل دینا چاہےئے۔کرمانی نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ 28؍جولائی 2017ء ؁ کو مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی نے دھرنا دیکر ایک میمورنڈم ڈویژنل کمشنر کی معرفت صدر جمہوریہ کو روانہ کیا جس میں دیگر مطالبوں میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ہر ضلع میں گؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی سے اقلیتوں کی حفاظت کے لئے پولس کا ایک خصوصی دستہ تشکیل دیا جائے اور اقلیتوں کی حفاظت کا خصوصی بندوبست کیا جائے ۔ کرمانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ ہمارے مطالبے کے عین مطابق انھوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اب فوری طور پر سپریم کورٹ کے احکامات کی پیروی اور عمل در آمد کرتے ہوئے گؤ رکھشکوں پر لگام کسنے کے لئے ہر ضلع میں عدالتِ عالیہ کے احکامات کی روشنی میں پولس دستوں کی تشکیل عمل میں لائے۔ آخر میں کرمانی نے اپنے بیان میں مہاتما گاندھی کے پر پوتے تشار گاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں مبارکباد بھی پیش کی اور کہاکہ اُن کی مفادِ عامہ کی پٹیشن کے نتیجے میں یہ فیصلہ آیا ہے ۔جس کے لئے ملک کی اقلیت اُن کی شکر گذار ہے ۔


Share: